اردو میں جن شاعروں نے یکسوئی سے نثری نظم کو شعری اظہار کا وسیلہ بنایا اور اپنے کمال ہنر سے اس صنف کو مالا مال کیا ان میں سعید الدین کا نام اہمیت کا حامل ہے۔ سعید الدین کی پیدائش 1953ء میں حیدر آباد سندھ میں ہوئی۔ پیدائش کے چند سال بعد ہی ان کی والدہ انہیں لے کر عارضی طور پر واپس جے پور، راجستھان چلی گئیں جہاں سعید الدین نے اپنے بچپن کے سات آٹھ سال گزارے۔ انہوں نے 1980ء میں سندھ یو نیورسٹی سے اردو میں ایم اے کی ڈگری لی اور کیڈٹ کالج پٹارو سے تدریس کے پیشے کا آغاز کیا۔ ان کی نظموں کا پہلا مجموعہ ”رات“ کے عنوان سے 1997ء میں کراچی سے شائع ہوا جس نے نثری نظم کے تازہ کار شاعر کے طور پر ان کی شناخت کو مضبوط کیا۔ ان کی نظموں کا دوسرا مجموعہ ”اپنا پانی“ 2013ء میں سامنے آیا اور اس نے بھی پڑھنے والے سے داد سمیٹی۔ ایک گوشہ گیر اور شہرت کی خواہش سے دور رہنے والے سعید الدین خاموشی سے خوبصورت نظمیں تخلیق کرتے رہتے ہیں۔ سعید الدین نے تنقیدی مضامین بھی لکھے ہیں اور کبھی کبھی غزلیں بھی کہتے ہیں۔ ان کی غزلیں ہنوز غیر مطبوعہ ہیں۔ ان کے فن کا اصل میدان نثری نظم ہے جس میں انہوں نے اپنا مخصوص اسلوب وضع کیا ہے اور گہرا نقش قائم کیا ہے۔